خواتین کی مدد سے پہاڑی علاقوں کی ترقی ممکن

نینی تال || نریند سنگھ بشٹ

خواتین کی مدد سے پہاڑی علاقوں کی ترقی ممکن

@import url(http://fonts.googleapis.com/earlyaccess/notonastaliqurdudraft.css); body { font-family: 'Noto Nastaliq Urdu Draft', serif; }

خواتین کی مدد سے پہاڑی علاقوں کی ترقی ممکن
نریند سنگھ بشٹ


نینی تال

پہاڑ وں کی شان ہمالیہ کی طرح خواتین بھی پہاڑی علاقوں کی شان ہیں۔ بنا ان کے انسانی زندگی ادھوری ہے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہاں کی خواتین کی حالت ناگفتہ ہے۔  یہاں کی خواتین آج بھی ملک میں اپنامستقبل تلاش کر رہی ہیں۔ اس لیے ان خواتین کو مرکزی دھارے سے جوڑنا نہ صرف ضروری ہے بلکہ وقت کا اہم تقاضا بھی ہے۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق ریاست اتراکھنڈ میں جہاں 51فیصد مرد ہیں وہیں 54فیصد خواتین ہیں۔ریاست میں 66فیصد خواتین تعلیم یافتہ ہیں 30فیصد خواتین ملازت کے ذریعہ اپنے خوابوں کو پورا کر رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود آج بھی خواتین اپنے وجود کے لئے لڑ ہی رہیں۔تعلیم جو اس وقت کا سب سے اہم موضوع ہے اس میں خواتین کا وہ حصہ نہیں ہے جو ہونا چاہئے اور کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

سن 2008 میں بھوالی شہرکے دھیرج کمار جوشی نے ریاست اتراکھنڈ کے پتھرولی گڑھ،میں ڈیڈی ہاٹ،کنالی چھینا اور دھار چلابلاک کا سروے کیا انہوں نے پایا کہ درج فہرست ذات میں ون راوت ہیں، جن کو رجوار،ون راجی وغیرہ جیسے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے پہاڑی علاقے کی یہ سب سے چھوٹی قوم ہے اس کی آبادی محض135کنبوں پر مشتمل ہے۔ان کا ذریعہ معاش جنگلاتی امور اور زراعت ہے یہ قوم مرکزی دھارے سے آج بھی کوسوں دور ہے۔زندگی کی مشکلات کی وجہ سے ان کی آبادی کا حجم مسلسل رو بہ زوال ہے۔ آج ان کی حالت یہ ہے کہ سماج کے دوسرے طبقات سے ملنے میں اپنی سبکی محسوس کرتے ہیں۔رہنے سہن کے اعتبار سے ان کی زندگی آج بھی عام لوگوں سے 35برس پیچھے چل رہی ہے۔

سن2011میں نابارڈ کے تعاون سے سینٹرل ہمالین انوائر منٹ کی کوششوں سے مجھے اور میری ٹیم کو ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ عالم یہ تھا کہ میٹنگ کے اہتمام کے بعد بھی دو چار لوگوں سے ملاقات مشکل تھی۔ون راج قوم سڑک سے دس پندرہ کلو میٹر دور اندر رہتی ہے۔قابل ذکر اور اہم بات یہ ہے کہ وہ بھی آج موٹرگاریوں کی آواز سن کر خوف زدہ ہو جاتے ہیں اور تیزی سے جنگلوں میں بھاگ جاتے تھے۔ کافی کوشش کرکے ان کی عورتوں سے بات کرنے میں کامیابی ملی۔اٹھارہ انیس برس کی لڑکیاں جو ابھی خود ہی بچی ہیں، ان کے بھی بچے تھے۔ خواتین اور بچوں میں اکثر وبیشتر متعدد بیماریوں کی زد میں تھے۔دوران گفتگو معلوم ہوا کہ عورتیں بازار تک نہیں جاتی ہیں۔ وہ اپنے گھروں کے کام میں ہی مشغول رہتی ہیں اور یہی ان کی زندگی ہے۔ہمارے لئے ان کی صحت سب سے زیادہ اہم تھی اس لیے گاؤں کی سطح پر ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ صحت کیمپ کا اہتمام کیا گیا تھا تاکہ صحت کے متعلق ان میں بیداری پیدا کی جا سکے۔ہم اپنی اس مہم میں بڑی حد تک کامیاب رہے کیونکہ آج وہ صفائی ستھرائی کے ساتھ رہ رہی ہیں اور اب بیماریاں بھی ان میں بہت کم ہیں۔ آج وہ خود اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کا بھی خیال رکھ رہی ہیں۔

ٹیم نے ان خواتین کو متعدد سرکاری منصوبوں سے بھی واقف کرایا جس سے ان کو مرکزی دھارے میں جوڑنے میں آسانی ہوئی اور آج وہ ان اسکیموں سے نہ صرف مستفید ہو رہی ہیں بلکہ  اپنے مسائل افسران کے سامنے بھی رکھتی ہیں، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہاں پرایک عجیب  وغریب نظام دیکھنے کو ملا، ان کے قبیلے میں جب کسی کا انتقال ہوجاتا تھا توبھی مردے کو جلاتے نہیں تھے بلکہ مردے کو اسی گھر کو چھوڑ دیتے تھے اور خود کہیں اور آباد ہو جاتے تھے۔ ان کنبوں کو ہندو رسم و رواج کے لئے بھی بیدار کیا گیا۔ اسی بیداری کا نتیجہ ہے کہ اب یہ کسی کے انتقال پر اپنی رہائش تبدیل نہیں کر تے بلکہ مردے کو ہندو رسم ورواج کے مطابق جلاتے ہیں۔ آج یہ گپھاؤن میں رہنے کے بجائے باقائدہ گھر بنا کر بھی رہنے لگے ہیں۔ ان میں تعلیم کی حالت بہت خراب تھی محض 5فیصد لوگ تعلیم یافتہ تھے مختلف پروگراموں کے ذریعے مسلسل بیداری پیدا کرنے کی وجہ سے کچھ اصلاح ضرور ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود ان کے لیے ا بھی بہت کام کی ضرورت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کم از کم پندرہ برس اگر ان کے لیے کام کیا جائے گا تب کہیں جا کر ان کو مرکزی دھارے سے جوڑنے میں کامیابی مل سکتی ہے۔

اس طبقے کی حالت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے پہلی بار ریل گاڑی سے سفر 8اپریل 2013میں کیا۔ غور کرنے کی بات ہے کہ ابھی ہمارے ملک کی حالت کیا ہے۔ جدید ہندستان میں ابھی کتنے غریب اور پسماندہ لوگ ہیں۔ موضع مدن پوری کے راجی پریوار کی 62 سالہ خاتون کلاوتی نے بتایا کہ ٹرین دیکھنے کا موقع ان کو ایک تنظیم کے ذریعہ ملا ورنہ ان کو پتہ ہی نہیں تھا کہ ٹرین ہوتی کیا ہے؟ ون راجی کنبوں کی تعداد آج 225ہو گئی ہے۔ کنبے کی اس تعداد کو بھی ایک مثبت کامیابی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پہاڑی علاقے میں ان خواتین کی مدد سے ترقیاتی کام ہو سکتے ہیں۔ بس اس کے لیے انہیں تعلیم یافتہ بنا نا ہوگا، ان کو گاؤں سے نکال کر باہر تک سفر کرانا ہو گا تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دنیا اور اس کی ترقی دیکھیں اور محسوس کریں کہ ان کی وادی سے آگے بھی ایک حسین دنیا ہے مگر اس کے لیے ان تھک کوشش اور سخت محنت کی ضرورت ہے۔

پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد چرخہ ڈیولپمنٹ کمیونی کیشن نیٹ ورک، دلی کے توسط سے ان ون راجوں کے بارے میں اپنی معلومات دوسروں سے مشترک کرنے کا موقع ملا تو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ قوم آج بھی مرکزے دھارے سے کوسوں دور ہے۔ شاید اس مضمون کے ذریعہ لوگوں تک ان کی اصل حالت کی معلومات پہنچے تو سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں ان کی ترقی کے لئے کچھ مثبت اقدامات اٹھائیں۔(یہ مضمون سنجوئے گھوش میڈیا ایوارڈ 2019کے تحت لکھی گئی ہے)