خواتین تشدد پر سماج خاموش کیوں؟

نریندر سنگھ بشٹ  || نینی تال، اتراکھنڈ

خواتین تشدد پر سماج خاموش کیوں؟
Image Source: Internet

نریندر سنگھ بشٹ 
نینی تال، اتراکھنڈ 

بھارت میں تشدد کے جو واقعات پیش آتے ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق خواتین سے ہوتا ہے۔ اس کی شکل چاہے جو بھی ہو۔ قدیم روایت کے مطابق ہندوستان میں عورتیں تیاگ کی دیوی کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ خاندان میں لڑکیوں کو وہ درجہ حاصل نہیں ہوتا ہے جو انہیں ملنی چاہیے۔ ان کا مقام مرد وں کے نیچے اور بڑی حد تک بے بنیاد مانا جاتا تھا۔ لڑکیوں کو اس کے تحت تعلیم حاصل کرنے،فیصلہ لینے او ر سماج میں کسی بڑے منصب پر فائز ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا تھا۔ ہندوستان میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا آغاز ان کی پیدائش سے ہوجاتا ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے جن نوزائیدہ بچوں کو کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے ان میں 97فیصد بچیاں ہی ہوتی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ آج کل خواتین اپنے وجود کی جنگ لڑنے کے قابل ہو رہی ہیں لیکن یہی حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں سلامتی، تعلیم، صحت اور معاشی تشدد کی براہ راست مثالیں روزانہ دیکھنے یا سننے کو مل جاتی ہیں۔ اگر خواتین سے متعلق ہونے والے جرائم کے بارے میں معلومات اخبارات میں شائع نہ ہوں تو یہ اخبار تین چار صفحات تک محدود ہوجائیں گی۔

سیکیورٹی کے معاملے میں ریاست اتراکھنڈخواتین کے لئے محفوظ سمجھی جاتی ہے جبکہ دہلی غیر محفوظ، لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ خواتین کو ملازمت دینے کے معاملے میں ریاست اتراکھنڈ سب سے نیچے ہے جبکہ دہلی سر فہرست ہے۔فی الحال، روزگار کے ذریعہ آمدنی پیدا کرنا ہر گھر کا مطالبہ ہے، خواتین گھر کی سربراہ ہوتی ہیں۔ اس لئے ان کو معیشت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وجہ سے انہیں روزگار کے لئے دوڑ بھاگ بھی کرنی پڑتی ہے۔ وزارت برائے خواتین اور بچوں کی ترقی کی رپورٹ کے مطابق، 29 ریاستوں کی فہرست میں ریاست اتراکھنڈ خواتین کی حفاظت میں 13 ویں نمبر پر ہے۔اسی رپورٹ کے مطابق تعلیم اور صحت کے معاملے میں اتراکھنڈ دسویں نمبر پر ہے۔ اگر ریاست کی خواتین بیرونی تشدد سے محفوظ ہے تو گھریلو تشدد نے انہیں اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔بھارت میں خواتین سے متعلق ہونے والے کُل جرائم میں 34 فیصد معاملے تشدد کے کیس ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے بچپن یا نوعمری میں جنسی استحصال کا معاملہ  45فیصد ہوتا ہے۔ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ حقیقت میں عورتیں کسی بھی علاقے میں محفوظ نہیں ہیں۔ عورت خواہ پہاڑی علاقوں کی ہوں یا میدانی علاقوں کی، کسی نہ کسی طرح طرح سے وہ تشدد کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔
صحت کے لحاظ سے بھارت زچگی کی شرح اموات کے مطابق دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ آج بھی یہاں خواتین کو گھر کے اندر غذائیت کے تئیں بھید بھاؤ کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ ملک میں صرف 45  فیصد پیدائش کی نگرانی صحت کے پیشہ ور افراد کرتے ہیں باقی 55فیصد خواتین دوسری خواتین سے مدد لیتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس ڈلیوری کے دوران جان بچانے کے لئے نہ تو جدید وسائل ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں اس کام میں کوئی خاص مہارت ہوتی ہے۔ حکومت نے صحت مراکز اور بنیادی صحت مراکز بنائے ضرور ہیں لیکن سہولیات کے لحاظ سے ان صحت مراکز کو خود علاج کروانے کی ضرورت ہے، اے این ایم / آشا ورکر کے ذریعہ خواتین میں بیداری پیدا کرنے کا کام کیا جارہا ہے جو قابل تعریف ہے، لیکن حکومت کو چاہئے کہ پہلے صحت مراکز کو مناسب اور جدید سہولیات سے لیس کرکے لوگوں کو بیدار کرے کیونکہ اس کے ذریعہ صحت سے متعلق پریشانیوں سے نجات پانے میں یقینی طور پر مدد ملے گی۔ہندوستان میں 92فیصد خواتین نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں۔ حمل اوربچوں کی پیدائش سے متعلق مختلف وجوہات کی بنا پر روزانہ 300 سے زیادہ خواتین کی موت واقع ہوتی ہے۔ 1995 میں زچگی کی شرح اموات فی لاکھ 500 تھی۔ یو این ڈی پی ہیومن ڈولپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق، 15-49 سال کی عمر کی حاملہ خواتین میں خون کی کمی کا تناسب 88 تھا۔ خواتین کی اوسط غذا ہر دن 2200 کیلوری کی ضرورت ہوتی ہے جو فی الحال 1400 کیلوری ہے۔
تعلیم کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو اعدادوشمار کے مطابق تعلیم میں بتدریج بہتری آرہی ہے لیکن آج بھی خواتین شرح خواندگی کم ہے۔ 1997 کے 4 قومی سمپلز ڈاٹا کے مطابق ہندوستان میں صرف کیرالہ اور میزورم ہی دو ایسی ریاستیں تھیں جو خواتین کی عالمی سطح شرح خواندگی کے برابر تھیں۔ امریکی کامرس ڈیپارٹمنٹ کی 1998کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں تعلیم نسواں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اسکول کی ناکافی سہولیات ہیں۔ نیز نصاب میں صنفی تعصب، اساتذہ کی کمی، نصاب میں عدم مطابقت محسوس کرنا اور خاندانی ذمہ داری کی وجہ سے لڑکیوں کا اسکول چھوڑنا بنیادی وجہ ہے۔ بہر کیف یہ بھی حقیقت ہے کہ عمر کے ساتھ ہی اسکول جانے والی لڑکیوں کا تناسب کم ہوتا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ اتراکھنڈ کو ریاستی تعلیم اور صحت خدمات میں 10 واں مقام حاصل ہے لیکن آج بھی یہاں پہاڑی خواتین حکومتی اسکیموں سے مستفید نہیں ہوپاتی ہیں۔ جنھیں معلومات ہوتی ہے وہ بھی ان سے فائدہ اٹھانے سے قاصر ہوتی ہیں۔ ریاست میں لڑکیاں انٹرمیڈیٹ  تک تعلیم حاصل کرنے کی تو اہل ہوتی ہیں لیکن گھریلو ذمہ داری کی وجہ سے وہ اعلی تعلیم حاصل نہیں کرپاتی ہیں اور وہ اسے اپنا مقدر سمجھ کر وہ خاموش بیٹھ جاتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلی تعلیم مہم بنا کر سب کو بغیر کسی جانبداری کے دی جانی چاہئے اور والدین کو بھی چاہتے کہ وہ لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان کسی طرح کا بھید بھاؤ نہ کریں کیونکہ جب قدرت نے دنیا میں دو طاقتوں کو بغیر بھید بھاؤ کے ساتھ بھیجا تو آخر ہم کون ہوتے ہیں ان کے درمیان تفریق پیدا کرنے والے؟
حکومت ہند کو اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر کام کرنے اور اس سمت میں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے ہندوستانی خواتین پر ہونے والے تشدد کے بارے میں بتانے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے۔ہم سب کو خود کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم سب بھی ان تشدد کے بھی ذمہ دار ہیں۔ (یہ مضمون سنجوئے گھوش میڈیا ایوارڈ2019 کے تحت لکھی گئی ہے)